Posts

‘Deconstruction applies to 'in here' and not necessarily 'out there'.

'To perceive an object is to know immediately that there is always more to be said. All experience is experience of more, of possibility. Presumably we are is talking about experiencing objects. But there are of course narratives whereby we are not said to experience or perceive objects themselves, but rather other things like light or neural activity, which were induced by the objects 'out there'. From that perspective deconstruction applies to 'in here' and not necessarily 'out there'. The language and narrative being 'in here' also by the internal narrative of inference. Where it becomes interesting is when what is internal becomes externalized, through media, language and culture. eg a pyramid, a movie, a bill of rights. ie. Man made objects. These are open to deconstruction, and as such are physically manifest as 'out there' according to the objective narrative, but that is not to deconstruct the objective world generally within...

اسلام اور مغرب جدید تناظر میں

Image
پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد Lines in red are for discussion with students کیسویں صدی کا آغاز جن واقعات سے ہوا، انھوں نے اسلام اور مغرب کی تاریخی آویزش کو ایک نئی  شکل دے دی اور ہر دو فریق جن خدشات، خطرات اور تنازعات کا شکار ہوئے، وہ عالمی نقشے پر بعض بنیادی تبدیلیوں کا سبب بن گئے۔ مغربی اقوام خصوصاً امریکا کے سامراجی عزائم عملی شکل اختیار کر گئے اور مغرب کے تمام حقوق انسانی، سرحدی آزادی، ملکی خود مختاری اور امن عالم کے نام نہاد نعروں کی قلعی کھل کر سامنے آگئی۔ مغرب کے بعض نمایندہ مفکرین نے سیاسی، سامراجی عزائم کو نئے عالمی نظام (نیو ورلڈ آرڈر) کا چوغا پہنا کر مسلم ممالک کے توانائی کے وسائل پر عسکری قوت سے قبضہ کرنے کے گھناؤنے عمل کو امریکا کی ’قومی سا لمیت کے تحفظ‘ کا نام دیا۔ ۱۹۹۲ء میں امریکی مفکر سیموئل پی ہن ٹنگٹن نے اپنے ایک مقالے میں جس تہذیبی ٹکراؤ کے خدشے کا اظہار کیا تھا وہ عملاً پہلے سے تحریر شدہ ایک کہانی کے خاکے کی طرح ستمبر ۲۰۱۱ء میں افغانستان اور عراق پر یلغار کی شکل میں ظہور پذیر ہوا۔ واقعات کے اس منطقی تسلسل نے مسلم ممالک کی غالب آبادی کو یہ سوچنے پر م...

اسلام: تہذیبی تصادم اور مکالمہ

Image
مجتبیٰ فاروق نو مبر ۱۹۸۹ء میں دیوارِ برلن کے گرنے کے ساتھ ہی بین الاقوامی سیا ست میں سرد جنگ بھی اختتام کو پہنچی ۔اس کے بعد مغر بی سیا ست دانوں،پالیسی سا زوں اور دانش وروں نے آیندہ اپنی خار جہ پالیسی کے لیے ایک نئی حکمت عملی وضع کی۔اس تعلق سے سب سے پہلے ایک امریکی مفکر فرانسس فو کو یاما نے ۱۹۸۹ء میں ایک امریکی رسالے The National Interest میں The End of History(انتہاے تاریخ) کے نام سے ایک مضمون لکھا کہ مغر بی تہذیب انتہائی عروج پر ہے اور یہ ساری دنیا پر چھا جائے گی۔ اسی مضمون میں فو کو یا مانے Liberal Democracyکا تصور پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہی انسان کی نظر یاتی تر قی کی آخری فتح ہے اور یہ کہ دنیا میں رائج نظریات کے درمیان کش مکش ختم ہو گئی ہے اور مغر بی آزاد جمہوریت کے سوا اب دنیا میں کو ئی نیا نظر یہ یا نظام آنے والا نہیں ہے ۔ ۱؂ اس کے بعد بر نارڈ لیوس نے اس نظر یے کو نئے قالب میں پیش کرتے ہوئے Return of Islam کے نام سے مقالہ لکھا۔ پھر اس مقالے کو نئی شکل دے کرماہ نامہ Atlantic میں The Roots of Muslim Rage (مسلم غم و غصہ کی جڑ یں) کے زیرعنوان زہریلی تحریر بناکر تہذیبی تصادم کا...

انٹرنیٹ کی دنیا: خطرناک رجحانات

سید وقاص جعفری /عامر شہزاد انٹرنیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ استعمال کیے جانے والے سرچ انجن گوگل کی فحش مواد(pornography)کی سرچ کے حوالے سے پاکستان کے دنیا میں سر فہرست ہونے کے چرچے اس وقت مغربی میڈیا کے ساتھ ساتھ پاکستانی میڈیا میں بھی کیے جارہے ہیں۔ یہ رپورٹ گذشتہ سال، یعنی ۲۰۱۱ء کے اعداد و شمار کی بنیا د پر ترتیب دی گئی ہے لیکن کوئی بھی شخص گوگل ٹرینڈز (Google Trends) کے ذریعے کسی بھی سال اور کسی بھی خاص علاقے کے حوالے سے کسی بھی لفظ کی سرچ کا ڈیٹا دیکھ سکتا ہے۔ اس سے پہلے بھی اس وقت میڈیا نے واویلا کیا تھا جب جولائی ۲۰۱۰ء میں متعصب مغربی خبررساں ادارے فاکس نیوز کی طرف سے گوگل کے اس ڈیٹا کی بنیاد پر پاکستان کے فحش مواد تک رسائی میں سر فہرست ہونے کی خبر سامنے آئی تھی۔ بعد ازاں گوگل کے ترجمان نے اسی ماہ یہ کہہ کر اس کی تردید بھی کردی تھی کہ اس طرح کی کوئی بھی رپورٹ اغلاط سے مبرا نہیں ہوسکتی۔ فاکس نیوز نے اس رپورٹ کی بنیاد پر اپنی خبر کی شہ سرخی میں پاکستان کو پورنستان (Pornistan) قراردیا تھالیکن گوگل کے ترجمان تھیریسے لم (Therese Lim) نے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کرنا ایک...

اختلافِ اُمت: نجات کی راہ

ڈاکٹر نجیب الحق  ایمان لانے کا ایک قدرتی نتیجہ مسلمانوں کے دلوں میں ایک دوسرے سے محبت کی صورت میں ظاہر ہو تا ہے۔ آج ہم اپنا جائزہ لیں کہ کیا ایسا ہے ؟ اور اگر نہیں تو اپنے ایمان کی فکر کریں کہ کہاں کیا نقص رہ گیا ہے۔ آج اُمت اختلاف کا شکارہو گئی ہے اور اس کا ایک بڑا مسئلہ آپس کی مخالفت اور تفرقہ ہے۔ اس کے نتیجے میں اُمت ذہنی اور عملی خلفشار اور معاشرتی انتشار کا شکار ہو گئی ہے۔ اگرچہ اس حالت کی بہت سی وجوہ ہو سکتی ہیں جن میں سے کچھ اپنوں اور کچھ غیروں کی پیدا کردہ ہیں لیکن یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ تفرقے کی یہ بیماری اُمت کے وجود کو گھن کی طرح چاٹ رہی ہے۔  تفرقہ بازی شیطان کا راستہ ہے اور ہمیں اس راستے کو چھوڑ کر رحمٰن کے بتائے ہوئے اتفاق و اتحاد کے سیدھے راستے کی طرف آنا ہو گا جس کا ذکر خود اللہ تعالیٰ نے سورۂ انعام میں فرمایا : وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِـیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ ج وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ ط ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَo  (انعام ۶:۱۵۳) اس کی ہدایت یہ ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ...